Skip to main content

سینیٹر کرشنا کماری تھر کے روایتی لباس میں حلف برداری کے لیے ایوان میں آئیں۔

کرشنا کماری تھر کے روایتی لباس میں اپنی والدہ کے ساتھ

کرشنا کماری تھر کے روایتی لباس میں اپنی والدہ کے ساتھ

سینیٹ میں چئیرمین کے انتخاب کے موقع پر اگرچہ تمام سینیٹرز ہی اہمیت کے حامل تھے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر کرشنا کماری کولہی اپنے تھر کے روایتی لباس کی وجہ سے مرکز نگاہ بنی رہیں۔


پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر خواتین کی نشست پر کامیاب ہونے والی سینیٹر کرشنا کماری تھر کے روایتی لباس میں حلف برداری کے لیے ایوان میں آئیں۔تھری لباس کے ساتھ کرشنا کماری نے کندھوں تک روایتی سفید چوڑیاں بھی پہن رکھی تھیں۔
کرشنا کے ساتھ ان کے والدین بھی تقریب حلف برداری دیکھنے کے لیے سینیٹ ہال آئے۔ انہوں نے بھی روایتی لباس زیب تن کر رکھا تھا۔ صحافیوں سے گفتگو میں کرشنا کولہی نے کہا کہ انہیں بہت فخر محسوس ہو رہا ہے اور وہ اپنی کمیونٹی کو آگے لانے کی کوشش کریں گی۔
کرشناکولہی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمیں نمائندگی ملی ہے۔انہوں نے سینیٹ نشست کے لیے ٹکٹ دینے پر پیپلز پارٹی کی قیادت خصوصاً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ بھی ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے غریب عوام کے ساتھ چلی ہے اور ان کی کمیونٹی سے کسی بھی شخص کا آگے آنا، ایسا صرف پیپلز پارٹی ہی کرسکتی ہے،
کرشنا کولہی کا کہنا تھا کہ میں اب اپنے علاقے کی خواتین کے لیے زیادہ بہتر کام کرسکوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی کمیونٹی کی فلاح کے لیے بھرپور کوشش کرونگی۔
ایوان کے اندر اور باہر ارکان سینیٹ،صحافی اور سینیٹ اجلاس دیکھنے کے لیے آئے مہمان کرشنا کولہی کے ساتھ تصاویر بھی بنواتے رہے۔

کرشنا کماری کوہلیکرشنا اس موقع پر بہت خوش اور پرجوش نظر آرہی تھیں۔
تھرپارکر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری کولہی پاکستان کی تاریخ میں شیڈول کاسٹ سے تعلق رکھنے والی پہلی ہندو خاتون ہیں جو سینیٹ میں خواتین کی نشست پر کامیاب ہوئیں۔ انتہائی پسماندہ زندگی گزارنے والی کرشنا کولہی نے غربت اور بھوک و افلاس کے ساتھ بچپن کے کچھ سال ایک وڈیرے کی نجی جیل میں بھی گزارے۔
کرشنا کولہی نے انتہائی مشکل حالات میں اپنی تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھا اور نویں جماعت میں ہی ان کی شادی کردی گئی۔ تاہم شادی کے بعد انہوں نے اپنے سلسلہ تعلیم کو جاری رکھا۔ سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس کے ساتھ ساتھ تھر اور قریبی علاقے کے غریب لوگوں کی مدد کے لیے فلاحی اور سماجی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی طور پر کرشنا کولہی کو سینیٹ کا ٹکٹ جاری کیا تھا جس کے بعد آج انہوں نے بطور سینیٹر حلف اٹھا لیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک

 —  وائس آف امریکہ پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔ لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔ محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی ...

سیالکوٹ:بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری،2افراد شہید

ستمبر 14, 2017   |   فائل فوٹو سیالکوٹ :سیالکوٹ میں  بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری کے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 2افراد شہید اور3زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق،بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ گزشتہ رات بھارتی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری  کی گئی ،جس کے نتیجے میں گاؤں دیاروالی کا 45سالہ ظہورالہی اور کاھلیاں کی 60سالہ ریشماں بی بی شہید ہوگئے، جبکہ گاؤں ککراں کی سفرین بی بی، میراسلم اورغلام عباس شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ بھارتی فوج کی درندگی کے نتیجے میں متعدد مویشی بھی زخمی ہوئے،پنجاب رینجر کی جانب سے منہ توڑجواب کے بعد دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں