Skip to main content

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک



پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔
لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔
محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
"انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، یہاں بھی سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے ہمارے لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ان کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی۔"
پی ٹی ایم نے گریسی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت طلب کی تھی لیکن محسن داوڑ کے بقول انتظامیہ نے انھیں بتایا کہ یہاں جلسہ نہیں ہو سکتا لیکن ہفتہ کو ہی یہاں حال ہی میں معرض وجود میں آنے والی پاکستان تحفظ تحریک نے جلسہ منعقد کیا۔
اس جلسے میں شریک صوبائی قانون ساز فضل حکیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وہ سوات میں امن کے خواہاں ہیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے بعد یہاں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کیے جانے والے اقدام سے اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
انھوں نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اس جلسے میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے متنفر کرنے کی کوشش کی گئی۔
پشتون تحفظ تحریک کا جلسہ اتوار کو کبل گراؤنڈ میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔a

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

Putin pushes for patriotism among young people

Kids of the "Youth Army"    Russia’s "Youth Army" movement has grown to almost 200,000 members in less than two years, as President Vladimir Putin and his government try to foster patriotism among young people. Known as "Yunarmia" in Russian, the movement offers military training and new experiences to children as young as eight years old. They wear uniforms and pledge allegiance to the "Fatherland", and promise to "strive for victories in studies and sport" as well as honoring the memory of fallen heroes. “We are part of the wider armed forces. We are civilians, but we are standing together with everyone else to protect the country,” said 16-year-old member Darya. And one of the key components of the oath is the vow to be a patriot. “Patriotism is about noticing the faults that exist in your motherland, to fix them and make things better - for your town, for your country and your region,” said 13-year-old member Yaros...