Skip to main content

عمر خراسانی کو بھارتی اور افغان ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں-وائس آف امریکہ

کالعدم  تنظیم جماعت ا لاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کا نام اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی کی بین الاقوامی جنگ میں دوہرے معیار سے تعبیر کیا ہے۔
اس بارے میں وائس آف امریکہ کے اردو سروس کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر مارون وائن بام نے کہا کہ ان کے لئے بقول انکے امریکہ کے موقف کو سمجھنا مشکل ہے کیونکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس تنظیم کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور انہیں افغانستان میں پناہ مل گئی ہے اور یہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پروگرام کی کامیابی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ الجھن کا شکار ہیں کہ دہشت گردوں کی فہرست میں اس کا نام نہ ڈالنے کا سبب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ ان کے خیال میں افغانستان سے کسی نے کہا ہو کہ ہم دہشت گردوں کو پناہ نہیں دیتے ، لیکن یہ بات سب ہی جانتے ہیں کہ جماعت ا لا حرار’ تحریک طالبان پاکستان‘ کی ایک ذیلی شاخ ہے اور اس نے پاکستان کے اندر تشدد کی بعض انتہائی سنگین کارروائیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمر خالد خراسانی ایک دہشت گرد تنظیم کا سربراہ ہے اور دہشت گرد ہے اور ایک دہشت گرد بہرحال دہشت گرد ہوتا ہے خواہ وہ جہاں بھی ہو۔
سینٹر فار پیس، سیکیورٹی اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز کے سلمان جاوید کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مہم کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عجیب بات ہے کہ جس تنظیم کا خراسانی سربراہ ہے اسے دہشت گرد تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کے سربراہ کو دہشت گرد ماننے پر اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ بقول ان کے پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی انٹیلی جینس ایجنسیاں مشترکہ طور پر اس جیسے دہشت گردوں کو اپنے مقاصد کے لئے پناہ دیتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Gender Inequality

Equality is the main thing which remains a person is equal to the other person. without it, the society and community are not run a long time. When you are trying to ensure justice in society and the entire nation you would see the one eye to every one of them and the system would be one for the rich and poor also. the education of daughter is that much important which we focus on son education.  Today we are talking the inequality in genders and we will find is that equality of both the genders ????  In politics, the political theory of equality is more strong. where political parties are given equal status to both male and female members but unfortunately there is a huge gape for both status you can imagine that through seeing the number of women representatives in the national assembly. 51% of population women in Pakistan and the representatives of women's in the national assembly is only 70 seats out of 342 in the national assembly and the men repr...

China finds no radiation issues after North Korea bomb test

A North Korean state handout shows Kim Jong-un in a test facility China has concluded that radiation levels remain normal in the provinces near the North Korean border after the reclusive state conducted a powerful nuclear test last week, sparking concerns of residual environmental damage. China's Ministry of Environmental Protection announced last night it was ending its emergency radiation monitoring in response to the blast last week, which North Korea claimed was the successful detonation of a hydrogen bomb. "A comprehensive assessment has concluded that this DPRK nuclear test has caused no environmental impact on China," the ministry said in a statement posted on its website, using the initials of the North's official name. "After eight days of continuous monitoring, no abnormal results were shown." More than 1,000 aerosol, air, iodine, water and sediment samples were taken at monitoring stations in northeast Heilongjiang, Jilin and Liaon...

اوباما کا اچانک ہائی اسکول کا دورہ، طلبا ہکا بکا رہ گئے

واشنگٹن: سابق امریکی صدرباراک اوباما نے واشنگٹن میں قائم ہائی اسکول کا اچانک دورہ کیا۔ جس پر بچے حیران رہ گئے۔ باراک اوبامہ  طالبعلموں کے ساتھ گھل مل گئےاور ان کے ساتھ بات چیت کی  سابق امریکی صدر کو پاکر درمیان دیکھ کر بچوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ سابق امریکی صدر نے طالبعلموں سے  انکی زندگی کے مقاصد کے بارے میں جانا اور کہا کہ وہ اعلی تعلیم حاصل کرکے ملک کی خدمت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل کے میں دنیا کو درپیش مسائل کا حل آج کے نوجوانوں کے پاس ہے۔