Skip to main content

روس کی پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت


ایسے میں جب پاکستان پر امریکہ کا اثر و رسوخ کمزور پڑتا جا رہا ہے، پاکستان کا سابق حریف روس اُس کے ساتھ فوجی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے، جس کے باعث خطے کے تاریخی اتحاد ٹوٹنے لگے ہیں، جب کہ روس کی توانائی کی کمپنیوں کے لیے قدرتی گیس کی منڈی تک رسائی سہل ہوتی جا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے، ’رائٹرز‘ نے اسلام آباد سے شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ روس کی جانب سے پاکستان کو گلے لگانے کی پالیسی ایسے وقت دیکھنے میں آرہی ہے جب امریکہ اور اُس کے تاریخی اتحادی کے مابین تعلقات اُس وقت استوار ہو رہے ہیں جب افغانستان میں لڑائی کے معاملے میں الجھاؤ ہے۔ اَسی کی دہائی کے مقابلے میں پاکستان روس تعلقات مختلف ہیں جب پاکستان سویت فوجوں کے خلاف نبردآزما تھا، اور سرحد پار افغان عسکریت پسندوں کے لیے اسلحہ اور امریکی جاسوس بھیجنے میں معاونت کر رہا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالانکہ روس اور پاکستان کے درمیان خیرسگالی کا معاملہ ابتدائی مراحل میں ہے، جب کہ اس کا ہمسایہ چین پاکستان میں اُس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے امریکہ نے خالی کیا ہے۔ ادھر روس اور پاکستان کے کئی دہائیوں سے سمٹے ہوئے تعلقات توانائی کے معاہدوں کی صورت میں اور بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے میدان میں نمودار ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع، خرم دستگیر نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’’اِن کی ابتدا ہو رہی ہے۔ مستقبل کا دروازہ کھولنے کے لیے دونوں ملکوں کو ماضی سے نکلنا ہوگا‘‘۔
تعلقات کی نئی جہت ابھی افغانستان پر مرتکز ہے، جہاں روس نے افغان طالبان شدت پسندوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، جو امریکی فوجوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں جب کہ اُن کے پاکستان کے ساتھ تاریخی روابط ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس اور پاکستان دونوں افغانستان کے اندر داعش کی موجودگی سے بھی پریشان ہیں، جب کہ روس کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ شدت پسند گروپ کے عسکریت پسند وسط ایشیا کی جانب پھیل سکتے ہیں، جو اس کی سرحد کے ساتھ کا خطہ ہے۔ پاکستان میں، پہلے ہی داعش بڑے حملے کر چکی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ ’’سفارتی سطح پر زیادہ تر معاملات میں ہماری سوچ یکساں ہے۔ یہ ایسے تعلقات ہیں جو آئندہ خاصے فروغ پائیں گے‘‘۔
گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے دورہٴ روس کے دوران، دونوں ملکوں نے ’فوجی تعاون کمیشن‘ کے قیام کا اعلان کیا، تاکہ علاقے میں دولت اسلامیہ کے خطرے سے نمٹا جا سکے۔
اُنھوں نے سالانہ فوجی تربیت کی مشقیں جاری رکھنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا، جن کی ابتدا 2016ء میں ہوئی، جس کی شروعات روس نے پاکستان کو چار حربی ہیلی کاپٹر فروخت کر کے کی، ساتھ ہی پاکستانی فضائیہ کے ’جے ایف 17‘ لڑاکا جیٹ طیاروں کے لیے روس نے انجن فروخت کیے، جن طیاروں کو پاکستانی فوج اپنی سرزمین پر تیار کرتی ہے۔
تعلقات میں قربت کو پاکستان کا ہمسایہ اور تاریخی مخالف بھارت شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو سرد جنگ کے دِنوں میں سویت کیمپ کے ساتھ کھڑا تھا۔ گذشتہ دو عشروں کے دوران، روس بھارت تعلقات میں قربت روس کی جانب سے اسلحے کی بڑی کھیپ کی فروخت کی صورت میں سامنے آئی، جس ملک کو روس اپنا ’’حکمتِ عملی کا حامل ساتھی‘‘ قرار دیتا ہے۔
سشانت سارین پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات کے معاملے پر معروف ماہر خیال کیے جاتے ہیں۔ وہ نئی دہلی میں ’آبزرور رسرچ فاؤنڈیشن‘ سے وابستہ ہیں۔ اُن کے بقول، ’’اگر روسی سیاسی سطح پر بڑے پیمانے پر پاکستانیوں کی حمایت کرتے ہیں تو اِس سے ہمارے لیے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے‘‘۔
توانائی کے شعبے میں تعاون کے بارے میں پاکستانی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ روس اور پاکستان 10 ارب ڈالر مالیت کے توانائی ک
ے ممکنہ معاہدوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ’’بجلی کے چار سے پانچ بڑے منصوبے طے ہونے سے ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے‘‘۔

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک

 —  وائس آف امریکہ پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔ لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔ محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی ...

سیالکوٹ:بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری،2افراد شہید

ستمبر 14, 2017   |   فائل فوٹو سیالکوٹ :سیالکوٹ میں  بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری کے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 2افراد شہید اور3زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق،بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ گزشتہ رات بھارتی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری  کی گئی ،جس کے نتیجے میں گاؤں دیاروالی کا 45سالہ ظہورالہی اور کاھلیاں کی 60سالہ ریشماں بی بی شہید ہوگئے، جبکہ گاؤں ککراں کی سفرین بی بی، میراسلم اورغلام عباس شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ بھارتی فوج کی درندگی کے نتیجے میں متعدد مویشی بھی زخمی ہوئے،پنجاب رینجر کی جانب سے منہ توڑجواب کے بعد دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں