Skip to main content

غیر قانونی ہجرت کرنے والے پاکستانی, حقائق


ہر سال پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد بہترین ملازمت کے حصول اور روشن مستقبل کے لیے دنیا بھر کے ممالک کا رخ کرتی ہے- لیکن بدقسمتی سے کئی پاکستانی اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے ایسے غیر قانونی ایجنٹوں کا شکار بن جاتے ہیں جو انہیں غیر قانونی راستوں سے دیگر ممالک میں پہنچنے اور وہاں ملازمت دلوانے کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں- یہ بدقسمت پاکستانی ان ایجنٹوں کے جال میں پھنس کر بعض اوقات اپنی زندگی بھی برباد کر بیٹھتے ہیں اور اس سب کا سبب وسائل کی کمی کے علاوہ مکمل آگہی کا نہ ہونا ہے- ہجرت کوئی آسان کام نہیں ہے اس کے لیے کثیر سرمائے٬ مکمل قانونی کاغذات اور شفاف ریکارڈ کی ضرورت ہوتی ہے- تاہم ہم یہاں آپ کم غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں سے متعلق چند چونکا دینے والے حقائق سے آپ کو آگاہ کریں 
گے- 






ہر سال پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد دیگر ممالک سے واپس پاکستان ڈی پورٹ کی جاتی ہے اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے-

غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر پاکستانیوں کا تعلق منڈی بہاؤالدین٬ گجرات اور گجرانوالہ سے ہوتا ہے-
حکومتِ پاکستان کے مطابق سال 2012 سے 2017 کے درمیان دنیا بھر کے ممالک سے 544,105 پاکستانیوں کو ملک بدر کر کے واپس پاکستان بھجوا دیا گیا
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے سب سے زیادہ پاکستانیوں کو ملک بدر کیا جاتا ہے جبکہ دیگر ممالک میں امریکہ٬ یورپی ممالک٬ ترکی٬ جنوبی افریقہ اور ملائیشیا شامل ہیں-
سال 2012 سے 2017 کے درمیان صرف کینیڈا سے 13700 پاکستانیوں کو ملک بدر کیا گیا-
غیر قانونی تارکین وطن کو سفر کے دوران خاندان کی کشیدگی٬ قرضوں اور دھوکہ دہی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے-
غیر قانونی ہجرت کے ملک بدری کے علاوہ بھی کئی خوفناک نقصانات موجود ہیں جن میں غلام بنا لیا جانا٬ جبری مشقت لینا٬ انسانی اسمگلنگ٬ جبری عصمت فروشی وغیرہ شامل ہیں-
ملک بھر میں کئی ایسے خفیہ اور بلیک لسٹ ادارے موجود ہیں جو بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد کو سہانے خواب دکھاتے ہیں اور انہیں غیر قانونی طریقے سے دوسرے ملک بھجوانے کی کوشش کرتے ہیں- اس دوران کئی افراد یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا پھر فراڈ کا شکار ہو کر سب کچھ لٹا بیٹھتے ہیں-

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک

 —  وائس آف امریکہ پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔ لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔ محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی ...

Putin pushes for patriotism among young people

Kids of the "Youth Army"    Russia’s "Youth Army" movement has grown to almost 200,000 members in less than two years, as President Vladimir Putin and his government try to foster patriotism among young people. Known as "Yunarmia" in Russian, the movement offers military training and new experiences to children as young as eight years old. They wear uniforms and pledge allegiance to the "Fatherland", and promise to "strive for victories in studies and sport" as well as honoring the memory of fallen heroes. “We are part of the wider armed forces. We are civilians, but we are standing together with everyone else to protect the country,” said 16-year-old member Darya. And one of the key components of the oath is the vow to be a patriot. “Patriotism is about noticing the faults that exist in your motherland, to fix them and make things better - for your town, for your country and your region,” said 13-year-old member Yaros...