Skip to main content

مذاکرات اُن اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کریں گے جن کے پاس اختیارات ہیں: پی ٹی ایم


خیبر پختونخواہ حکومت نے پشتونوں کو درپیش مسائل کے حل کے لئے سرگرم ’پشتون تحفظ تحریک‘ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے ایک بڑا نمائندہ جرگہ تشکیل دیا گیا ہے۔
پشاور کے کور کمانڈر جنرل نذیر احمد بٹ نے منگل کو صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس تنظیم کے سربراہ کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ہوا جو خیبر پختونخواہ کے گورنر۔وزیر اعلیٰ اور کور کمانڈر پر مشتمل ہے۔
پی ٹی ایم کے محسن داوڑ سے (voa,Urdu)
پروگرام ’جہاں رنگ‘ میں جب یہ سوال کیا گیا آیا اُن کا گروپ اس جرگے میں جائے گا، تو انہوں نے کہا کہ ’’اب تک اُن سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا‘‘؛ انہیں صرف میڈیا کے ذریعے ہی یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ کوئی جرگہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’لاہور کے جلسے سے پہلے پیغام بھیجا گیا تھا کہ وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم اسکا خیرمقدم کرتے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہماری پرامن تحریک ہے جو عدم تشدد کی بنیاد پر اپنے مطالبات آگے بڑھا رہی ہے تو ہمیں مذاکرات میں کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کیونکہ مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہیں‘‘۔ لیکن، انہوں نے کہا کہ ’’مذاکرات ہم ان اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کریں گے جنکے پاس اختیارات ہیں اور کسی قبائیلی جرگے کی کوئی منطق نہیں بنتی، کیونکہ ہمارا مطالبہ تو ریاست سے ہے۔ ان لوگوں سے جنہوں نے وہاں آپریشن کئے ہی ہیں اور جو وہاں اپنا اختیار رکھتے ہیں‘‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ کور کمانڈر نے انہیں پیشکش کی ہے۔ کیا انکی یقین دہانی کافی نہیں ہے، تو انہوں کہا کہ ’’انٹیلی جینس اداروں سمیت دوسرے تمام اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی کے بغیر مذاکرات بے معنی ہونگے۔ اسکے علاوہ انہیں اعتماد کی فضا بھی قائم کرنا ہوگی، کیونکہ لاہور کے جلسے کے دوران کافی بدمزگی ہوئی۔ کراچی میں احتجاج کرنے والوں کو اٹھایا گیا‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’ہم تو خود قوم کی نمائیدگی کر رہے ہیں۔ ہم تو خود جرگہ ہیں اور ایک فریق کی حیثیت سے مذاکرات کریں گے اور یہ مذاکرات ریاستی اداروں کے ساتھ کریں گے۔ ریاست کے ساتھ کریں گے اور پھر ریاست کے اندر جتنے بھی سٹیک ہولڈرز ہیں ان سے کریں گے‘‘۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ جرگے میں شرکت کریں گے، انہوں نے کہا کہ ’’جب ہم سے رابطہ کیا جائے گا، تو ہم اپنی شرائط رکھیں گے اور انکو تسلیم کیا جائے گا تو ہم اسپر غور کریں گے‘‘۔

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک

 —  وائس آف امریکہ پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔ لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔ محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی ...

Putin pushes for patriotism among young people

Kids of the "Youth Army"    Russia’s "Youth Army" movement has grown to almost 200,000 members in less than two years, as President Vladimir Putin and his government try to foster patriotism among young people. Known as "Yunarmia" in Russian, the movement offers military training and new experiences to children as young as eight years old. They wear uniforms and pledge allegiance to the "Fatherland", and promise to "strive for victories in studies and sport" as well as honoring the memory of fallen heroes. “We are part of the wider armed forces. We are civilians, but we are standing together with everyone else to protect the country,” said 16-year-old member Darya. And one of the key components of the oath is the vow to be a patriot. “Patriotism is about noticing the faults that exist in your motherland, to fix them and make things better - for your town, for your country and your region,” said 13-year-old member Yaros...