ما نیٹرنگ ڈیسک
بی جے پی کے لیڈر ارون جیٹلی نے 2002 ء کے فسادات پر مودی کی معذرت خواہی کے ا مکان کو مسترد کردیا اور کہا کہ انھیں اپنے خلاف فرضی مہم کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ارون جیٹلی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ معذرت خواہی کے خواہاں ہیں وہ اس معذرت کو اعتراف ( جرم ) کے طورپر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ( مودی ) فی الواقعی کوئی غلطی کئے ہیں تو معذرت کیوں کریں بلکہ ان کے خلاف مقدمہ چلاتے ہوئے انھیں سزاء دی جائے ‘‘ ۔
جیٹلی نے مزید کہا کہ ’’ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو اس قسم کے اظہارت معذرت کا مطالبہ کررہے ہیں وہ یقیناً اس کے غلط استعمال کے خواہاں ہیں‘‘ ۔ بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کے انتہائی اور بااعتماد رفیق سمجھے جانے والے ارون جیٹلی نے کہاکہ مودی کو بھی تشدد پر یقیناًتشویش ہے ۔
راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی نے کہا کہ گجرات میں مودی کی حکمرانی کے دوران بشمول مسلمان تمام گجراتی خوش حال ہوئے ہیں اور معذرت کے لئے جو آوازیں اُٹھ رہی ہیں وہ یقیناًگجرات سے نہیں ہیں۔ ’’یہ آوازیں فرضی مہم سے آرہی ہیں‘‘ ۔ مودی کے بارے میں مسلمانوں کی بے چینی ، فکر و تردد اور ان کے اندیشوں کے ازالہ کرنے اور دلاسہ دینے کے لئے بی جے پی کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات سے جیٹلی نے کہا کہ وہ ( مودی اور بی جے پی ) اقلیتی بردادری کے تحفظ و سلامتی ان کی ترقی و خوشحالی اور عدم امتیاز کے بارے میں فکرمند ہیں ۔
انھوں نے کہا کہ ’’خود مودی بھی اقلیتوں کے تحفظ و سلامتی اقتصادی ترقی اور عدم امتیاز کا بارہا مرتبہ تیقن دے چکے ہیں۔ وہ واضح کرچکے ہیں کہ حکمرانی کی بنیادی دستاویز ہندوستانی دستور ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ ( مسلمانوں کو ) ڈرانے کیلئے ہمارے مخالفین کی کوششیں کامیاب نہیں ہورہی ہیں‘‘۔
جیٹلی نے کہا کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افرا د کی کثیرتعداد کے بشمول سارے ملک نے 2002 ء کے گجرات فسادات کے مسئلہ کو پس پشت ڈال دیا اور مودی سب کے لئے اتحاد پیدا کرنے والی شخصیت کے طورپر ابھرے ہیں لیکن ایسا اُن لوگوں کے لئے نہیں ہے جو مودی کے خلاف پروپگنڈہ میں مصروف ہیں۔
بی جے پی لیڈر نے مزید کہا کہ مودی کو انتشار پرور شخصیت کے طورپر ابھارنے کی ساری بحث اس بنیاد پر مبنی ہے کہ 2002 ء کے فسادات کے بعد اس اُمید کے ساتھ مودی کے خلاف شخصی مہم شروع کی گئی تھی کہ شائد الزامات سچ ثابت ہوجائیں گے ۔ مودی کو جس طرح سیاسی و عد التی تنقیح سے گذرنا پڑا کسی دوسرے ہندوستانی سیاسی قائد کو اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا نہیں پڑا ‘‘۔ جیٹلی نے کہاکہ تحقیقات میں مودی کو کلین چٹ مل جانے اور انھیں وزارت عظمیٰ کا امیداور بنانے کے بعد ان کے مخالفین اب یہ دعویٰ کررہے
ہیں کہ وہ (نریندر مودی) مذہب کی بنیاد پر ہندوستان میں شیرازہ بندی کریں گے ۔ اس کے برعکس حکمرانی کے مسائل پر ہندوستان میں شیزادہ بندی ہورہی ہے ۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ بشمول اقلیتیں ملک کے عوام کی کثیرتعداد وجہ اور حقیقت کو محسوس کرسکتی ہے ۔ اس سوال پر کہ آیا بی جے پی کتنے مسلم ووٹ حاصل ہونے کی توقع کررہی ہے ؟
جیٹلی نے جواب دیا کہ وہ ( بی جے پی ) اقلیتوں کی کثیرتعداد کے ووٹ حاصل کرنے کی توقع کررہی ہے ۔ارون جیٹلی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گجرات کے غالب مسلم اکثریتی علاقوں میں ہوئے بلدی انتخابات میں بی جے پی کے کئی امیدوار منتخب ہوئے ہیں ۔ان امیدواروں میں مسلمانوں کی کثیرتعداد بھی شامل ہے۔ راجستھان میں بی جے پی کے تمام چار مسلم امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی اب کثیرتعداد میں مسلم ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی
Comments
Post a Comment