Skip to main content

پاکستان اور روس کے پہلے بین الوزارتی مذاکرات


پاکستان اور روس کے درمیان رابطوں اور بات چیت میں حالیہ برسوں میں بہتری آئی ہے اور دوطرفہ روابط کے اسی سلسلے کی کڑی میں دونوں ملکوں کے درمیان پہلی مرتبہ بین الوزارتی سطح پر مذاکرات ہوئے ہیں۔
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) ناصر خان جنجوعہ کی قیادت میں پاکستانی وفد نے 22 اور 23 اپریل کو روس کا دو روزہ دورہ کیا۔
پاکستانی حکام کو اس دورے کی دعوت روس کے قومی سلامتی کے سیکرٹری نکولائی پیٹروشیف نے دی تھی۔
قومی سلامتی کے مشیر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے وفد میں قومی سلامتی ڈویژن، وزارت دفاع، وزارت دفاعی پیدوار کے میجر جنرل کی سطح کے افسران اور وزارت داخلہ، سپیس اینڈ اپرایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن، سپارکو اور دیگر وزارتوں کے اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔
ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں عالمی سطح پر بدلتی صورت حال خصوصاً اس کے تناظر میں خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفود کی سطح پر علاقائی روابط اور خفیہ معلومات کے تبادلے، خلائی سائنسز، سکیورٹی، معیشت، تجارت، سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں قریبی تعاون کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں روس کے دو وفود نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔
تجزیہ کار قمر چیمہ کہتے ہیں کہ پاکستان روس سے تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ تاہم اُن کے بقول دونوں ملکوں کے تعلقات کا ماضی اچھا نہیں ہے اور اس کے اثرات مکمل طور پر ختم ہونے میں وقت لگے گا۔
’’ہمیں تھوڑا تاریخ میں جانا پڑے گا ابھی بھی جو روس میں سول ملڑی لیڈر شپ بیٹھی ہوئی ہے یہ زیادہ تر کولڈ وار مائنڈ سیٹ کی ہے اور ان کو پاکستان کے ساتھ اپنے آپ کو اوپن اپ کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔‘‘
ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات میں 2014ء کے بعد سے نمایاں بہتری آئی ہے۔
اسی سال روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی جس کے بعد روس نے پاکستان کو لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط بھی کئے تھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان 2016ء اور 2017ء میں مشترکہ فوجی مشقیں بھی ہو چکی ہیں جب کہ گزشتہ سال پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی روس کا دورہ کیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

Tomato fight! Valencia celebrates annual festival

سوات میں جلسہ ضرور ہوگا-پشتون تحفظ تحریک

 —  وائس آف امریکہ پشتون تحفظ تحریک اتوار کو سوات میں جلسہ منعقد کرنے جا رہی ہے لیکن تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انھیں یہاں بھی ایسی ہی مشکل صورتحال کا سامنا ہے جیسا کہ اس سے قبل ملک کے دیگر علاقوں میں تحریک کے جلسوں کے دوران رہا۔ لیکن پی ٹی ایم کے ایک مرکزی رہنما محسن داوڑ نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود اتوار کے جلسے کے لیے وہ پرعزم ہیں اور اس کی تیاریاں تکمیل کے مراحل میں ہیں اور ان کے بقول اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات بھی ایک ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگ تکلیف سے گزر چکے ہیں اور یہاں سے متعدد بے گناہ لوگ جبری لاپتا ہیں۔ محسن داوڑ نے دعویٰ کیا کہ انتظامیہ نے انھیں جس گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت نہیں دی تھی وہیں ہفتہ کو دوسرے لوگ جلسہ کر رہے ہیں جب کہ مبینہ طور پر ایک روز قبل علاقے میں ایسے پمفلٹ بھی تقسیم کیے گئے جن میں لوگوں کو پی ٹی ایم کے جلسے سے گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ "انتظامیہ کی طرف سے ظاہر سی بات ہے جس طرح ہم نے پہلے جلسے کیے ہیں اسی طرح یہاں بھی کافی مشکلات کھڑی کرنے کی ...

سیالکوٹ:بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری،2افراد شہید

ستمبر 14, 2017   |   فائل فوٹو سیالکوٹ :سیالکوٹ میں  بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری کے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری سے 2افراد شہید اور3زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق،بھارتی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ گزشتہ رات بھارتی سیکیورٹی فورسزکی جانب سے بجوات سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ اورگولہ باری  کی گئی ،جس کے نتیجے میں گاؤں دیاروالی کا 45سالہ ظہورالہی اور کاھلیاں کی 60سالہ ریشماں بی بی شہید ہوگئے، جبکہ گاؤں ککراں کی سفرین بی بی، میراسلم اورغلام عباس شدید زخمی ہوگئے، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ بھارتی فوج کی درندگی کے نتیجے میں متعدد مویشی بھی زخمی ہوئے،پنجاب رینجر کی جانب سے منہ توڑجواب کے بعد دشمن کی توپیں خاموش ہوگئیں